Thursday, 7 August 2014

PLEASE HELP TO PALESTINIAN CHILDS


فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے پندرہ لاکھ ڈالر مالیت کا گولڈن بوٹ غزہ کے بچوں کے نام کر دیا
وہ عیسائی ہو کراکیلا وہ کچھ کر گیا جو ہم مسلمان بھی نہیں کر پائے،اس نے اپنی عزیز چیز ان بے بس اور تڑپتے بلکتے معصوم بچوں کے نام کر دی مگرہم تو سوائے فیس بک پر سٹیٹ
س اب ڈیٹ کرنے اور ٹویٹرپر ٹویٹ کرنے کے کچھ نہیں کر پائے۔ شرم آنی چاہئے ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے۔ اب بھی ہمیں کسی محمد بن قاسم کے آنے کا انتظار ھے جب کہ ہماری کرتوتیں ایسی ہیں کہ عذاب کے علاوہ کچھ اور نہیں آ سکتا۔ یہی وہ فلسطنی تھے جب پاکستان نے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کیا تو فلسطینیوں نے اسرئیلیوں کے سامنے سینہ چوڑا کر کےبولتے تھے۔
"ہمارے ہاتھوں میں اٹھاے پتھر مت دیکھو ...... پاکستان میں پڑا ایٹم بم دیکھو "
اور ہم نے کیا ان لوگوں کی امیدوں کے ساتھ کیا؟؟ جو کچھ غزہ میں ھو رھا ھے اس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں برابر کہ۔ کل کو یہ سب جب ہمارے ساتھ ھو گا تب کس کو الزام دیں گے ہم؟؟ کوئی نہیں سوچے گا کیونکہ ہم لوگ آنے والی کل کی سوچ سے ھی آزاد ہیں۔آج بھی اپنے کچھ دوستوں اور رفقاء کو کہا کہ اور کچھ نہیں کر سکتے تو پریس کلب چل کر احتجاج ہی کر لو، تو سب نام کے مسلمانوں نے انکار کر دیا۔ یہ ھے وہ قوم جو کہ خود کو آنے والے وقت میں دنیا کا فاتح قرار دیتی ھے۔ ان ہی نوجوانوں نے کشمیر فتح کرنا ھے؟؟؟انہوں نے ہی جہاد کرنا ھے؟؟؟ کوئی فرک نہیں پڑتا کہ یہ قوم کافروں کے بم سے مرے یا طالبان کے ھاتھوں، کیونکہ اپنی کرتوتیں ہی ہماری ایسی ہیں۔ یہ کہاں فکر کریں گے فلیطینی مسلمانوں کی؟؟ بس یہی فکر ہے کہ نائٹ پیکج کونسا ھے، کس سے فون پر بات کر رہی ھے؟؟ نمبر بند یا ویٹنگ پر کیوں تھا۔ کتنے نمبر بس پر جاتی ھے، ساتھ کون تھا؟؟؟ سب فکر ہے لیکن غزہ کیا ھے؟؟ شائد قوم کے سب افراد کو ٹھیک سے پتا بھی نہ ہو۔ جن کو پتا بھی ھے وہ کیا کر رہے ہیں؟؟؟ فیسبکی سٹیٹس ٹویٹر پر ٹویٹ اور پروفائل پکچر پر فلسطین کے ساتھ ہونے کا دکھاوا۔ شرم آنی چاہئے ہمیں۔ ہمارا نمبر بھی لگا پڑا ھے ان کتوں کی لسٹ میں لیکن ہمیں کل کی فکر کہاں؟؟
اتنا مت بھولو کہ ان کتوں کے ابے ڈیوڈ بن گوریان نے ھی کہا تھا کہ پاکستان کو ہر حال میں ختم کرو دو، اب بھی آپ جناب چپ کر کسی معجزے کا انتظار ہی کرتے رہو، خود مت کچھ کرنا، کیونکہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود نا خیال ہو اپنی حالت بدلنے کا

No comments:

Post a Comment