Friday, 3 October 2014
Thursday, 7 August 2014
PLEASE HELP TO PALESTINIAN CHILDS
فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے پندرہ لاکھ ڈالر مالیت کا گولڈن بوٹ غزہ کے بچوں کے نام کر دیا
وہ عیسائی ہو کراکیلا وہ کچھ کر گیا جو ہم مسلمان بھی نہیں کر پائے،اس نے اپنی عزیز چیز ان بے بس اور تڑپتے بلکتے معصوم بچوں کے نام کر دی مگرہم تو سوائے فیس بک پر سٹیٹس اب ڈیٹ کرنے اور ٹویٹرپر ٹویٹ کرنے کے کچھ نہیں کر پائے۔ شرم آنی چاہئے ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے۔ اب بھی ہمیں کسی محمد بن قاسم کے آنے کا انتظار ھے جب کہ ہماری کرتوتیں ایسی ہیں کہ عذاب کے علاوہ کچھ اور نہیں آ سکتا۔ یہی وہ فلسطنی تھے جب پاکستان نے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کیا تو فلسطینیوں نے اسرئیلیوں کے سامنے سینہ چوڑا کر کےبولتے تھے۔
"ہمارے ہاتھوں میں اٹھاے پتھر مت دیکھو ...... پاکستان میں پڑا ایٹم بم دیکھو "
اور ہم نے کیا ان لوگوں کی امیدوں کے ساتھ کیا؟؟ جو کچھ غزہ میں ھو رھا ھے اس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں برابر کہ۔ کل کو یہ سب جب ہمارے ساتھ ھو گا تب کس کو الزام دیں گے ہم؟؟ کوئی نہیں سوچے گا کیونکہ ہم لوگ آنے والی کل کی سوچ سے ھی آزاد ہیں۔آج بھی اپنے کچھ دوستوں اور رفقاء کو کہا کہ اور کچھ نہیں کر سکتے تو پریس کلب چل کر احتجاج ہی کر لو، تو سب نام کے مسلمانوں نے انکار کر دیا۔ یہ ھے وہ قوم جو کہ خود کو آنے والے وقت میں دنیا کا فاتح قرار دیتی ھے۔ ان ہی نوجوانوں نے کشمیر فتح کرنا ھے؟؟؟انہوں نے ہی جہاد کرنا ھے؟؟؟ کوئی فرک نہیں پڑتا کہ یہ قوم کافروں کے بم سے مرے یا طالبان کے ھاتھوں، کیونکہ اپنی کرتوتیں ہی ہماری ایسی ہیں۔ یہ کہاں فکر کریں گے فلیطینی مسلمانوں کی؟؟ بس یہی فکر ہے کہ نائٹ پیکج کونسا ھے، کس سے فون پر بات کر رہی ھے؟؟ نمبر بند یا ویٹنگ پر کیوں تھا۔ کتنے نمبر بس پر جاتی ھے، ساتھ کون تھا؟؟؟ سب فکر ہے لیکن غزہ کیا ھے؟؟ شائد قوم کے سب افراد کو ٹھیک سے پتا بھی نہ ہو۔ جن کو پتا بھی ھے وہ کیا کر رہے ہیں؟؟؟ فیسبکی سٹیٹس ٹویٹر پر ٹویٹ اور پروفائل پکچر پر فلسطین کے ساتھ ہونے کا دکھاوا۔ شرم آنی چاہئے ہمیں۔ ہمارا نمبر بھی لگا پڑا ھے ان کتوں کی لسٹ میں لیکن ہمیں کل کی فکر کہاں؟؟
اتنا مت بھولو کہ ان کتوں کے ابے ڈیوڈ بن گوریان نے ھی کہا تھا کہ پاکستان کو ہر حال میں ختم کرو دو، اب بھی آپ جناب چپ کر کسی معجزے کا انتظار ہی کرتے رہو، خود مت کچھ کرنا، کیونکہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود نا خیال ہو اپنی حالت بدلنے کا
وہ عیسائی ہو کراکیلا وہ کچھ کر گیا جو ہم مسلمان بھی نہیں کر پائے،اس نے اپنی عزیز چیز ان بے بس اور تڑپتے بلکتے معصوم بچوں کے نام کر دی مگرہم تو سوائے فیس بک پر سٹیٹس اب ڈیٹ کرنے اور ٹویٹرپر ٹویٹ کرنے کے کچھ نہیں کر پائے۔ شرم آنی چاہئے ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے۔ اب بھی ہمیں کسی محمد بن قاسم کے آنے کا انتظار ھے جب کہ ہماری کرتوتیں ایسی ہیں کہ عذاب کے علاوہ کچھ اور نہیں آ سکتا۔ یہی وہ فلسطنی تھے جب پاکستان نے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کیا تو فلسطینیوں نے اسرئیلیوں کے سامنے سینہ چوڑا کر کےبولتے تھے۔
"ہمارے ہاتھوں میں اٹھاے پتھر مت دیکھو ...... پاکستان میں پڑا ایٹم بم دیکھو "
اور ہم نے کیا ان لوگوں کی امیدوں کے ساتھ کیا؟؟ جو کچھ غزہ میں ھو رھا ھے اس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں برابر کہ۔ کل کو یہ سب جب ہمارے ساتھ ھو گا تب کس کو الزام دیں گے ہم؟؟ کوئی نہیں سوچے گا کیونکہ ہم لوگ آنے والی کل کی سوچ سے ھی آزاد ہیں۔آج بھی اپنے کچھ دوستوں اور رفقاء کو کہا کہ اور کچھ نہیں کر سکتے تو پریس کلب چل کر احتجاج ہی کر لو، تو سب نام کے مسلمانوں نے انکار کر دیا۔ یہ ھے وہ قوم جو کہ خود کو آنے والے وقت میں دنیا کا فاتح قرار دیتی ھے۔ ان ہی نوجوانوں نے کشمیر فتح کرنا ھے؟؟؟انہوں نے ہی جہاد کرنا ھے؟؟؟ کوئی فرک نہیں پڑتا کہ یہ قوم کافروں کے بم سے مرے یا طالبان کے ھاتھوں، کیونکہ اپنی کرتوتیں ہی ہماری ایسی ہیں۔ یہ کہاں فکر کریں گے فلیطینی مسلمانوں کی؟؟ بس یہی فکر ہے کہ نائٹ پیکج کونسا ھے، کس سے فون پر بات کر رہی ھے؟؟ نمبر بند یا ویٹنگ پر کیوں تھا۔ کتنے نمبر بس پر جاتی ھے، ساتھ کون تھا؟؟؟ سب فکر ہے لیکن غزہ کیا ھے؟؟ شائد قوم کے سب افراد کو ٹھیک سے پتا بھی نہ ہو۔ جن کو پتا بھی ھے وہ کیا کر رہے ہیں؟؟؟ فیسبکی سٹیٹس ٹویٹر پر ٹویٹ اور پروفائل پکچر پر فلسطین کے ساتھ ہونے کا دکھاوا۔ شرم آنی چاہئے ہمیں۔ ہمارا نمبر بھی لگا پڑا ھے ان کتوں کی لسٹ میں لیکن ہمیں کل کی فکر کہاں؟؟
اتنا مت بھولو کہ ان کتوں کے ابے ڈیوڈ بن گوریان نے ھی کہا تھا کہ پاکستان کو ہر حال میں ختم کرو دو، اب بھی آپ جناب چپ کر کسی معجزے کا انتظار ہی کرتے رہو، خود مت کچھ کرنا، کیونکہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود نا خیال ہو اپنی حالت بدلنے کا
Wednesday, 6 August 2014
DO SOMETHING FOR YOURSELF
ﺍﯾﮏ
ﺩﻥ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ
ﺻﻠﺢ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺎ؟ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﮯ۔
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻗﺮﯾﺐ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺎ؟ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﻨﺪﮮ ﺗﻮ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ! ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﻮ، ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺩﯾﺮ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﭘﮩﭽﺎﻧﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻮ-
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻗﺮﯾﺐ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺎ؟ ﺑﮩﻠﻮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﻨﺪﮮ ﺗﻮ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻥ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ! ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﻮ، ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺩﯾﺮ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﭘﮩﭽﺎﻧﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻮ-
Saeeda Warsi resigned as Minister in UK in favour of Palestine Nation
مسلمان
برطانوی وزیر سعیدہ وارثی جب کسی کام سے مسلم کمیونٹی میں جاتی تھی تب
لمبی اور چھوٹی داڑھیوں والے مسلمان نوجوان انہیں گالیاں دیتے اور ان پر
انڈے پھنکتے تھے۔ اب اسی مسلمان وزیر نے غزہ صورتحال پر اپنی وزارت سے
احتجاجاً استعفی دے دیا۔ شاید دنیا کی کوئی پہلے مسلمان شخصیت ہونگی جس نے
فلسطینیوں کے حق میں اپنا عہدہ چھوڑا۔ عجیب بات کہ وہ کسی مسلمان ملک کی
وزیر بھی نہیں .
Tuesday, 5 August 2014
Monday, 4 August 2014
Saturday, 26 July 2014
خوبصورتی وبال جان بن گئی
26 جولائی 2014 (10:33)
تائپے (نیوز ڈیسک) قازقستان کی پیاری صورت والی 18 سالہ لڑکی سبینا گھر سے نکلی تو والی بال کھیلنے تھی لیکن شائقین نے اسے اور ہی نظر سے دیکھنا شروع کردیا اور اب وہ ایک عام کھلاڑی کی بجائے کروڑوں دلوں کو گرمانے والی حسینہ بن چکی ہے۔ سبینا جب تائیوان میں منعقد ہونے والے اییشین انڈر 19 والی بال کپ میں شرکت کیلئے دارالحکومت تائپے پہنچی تو لوگوں کی نظریں اس پر مرکوز ہوکررہ گئیں اس کے حسن نے شائقین پر جادو کردیا ہے اور اب ٹورنامنٹ کے سارے میچ اور سارے کھلاڑی پس منظر میں چلے گئے ہیں اور لوگ صرف اسے دیکھنے کیلئے میدان میں آتے ہیں اور صرف اسے دیکھنے کیلئے ہی ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہاررہا ہے کیونکہ سب کی نظریں سبین کی دلکش صورت اور نازک اداﺅں پر رہتی ہے۔ وہ اس وقت چین، ویت نام، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیاءاور فلپائن کے کروڑوں مردوں کی آنکھ کا تارا بن چکی ہے۔ سبینا کی مقبولیت کی یہ صورتحال ہے کہ اس کے ساتھی کھلاڑی لڑکیاں شکوہ کرنے پر مجور ہوگئی ہیں کہ کھیل کے میدان میں ہر نظر سبینا پر ٹکی رہتی ہے اور اس کے کوچ کا کہنا ہے کہ ان حالات میں کام کرنا مشکل ہورہا ہے کیونکہ ہر کوئی سبینا کے حسن کا دیوانہ ہوگیا ہے جبکہ اصل کام یعنی کھیل کہیں گم ہو کررہ گیا ہے۔ اس نوعمر حسینہ کھلاڑی کے فیس بک اور ٹویٹر پر بھی کروڑوں پرستار ہیں اور ابھی تو اس کی مقبولیت کا آغاز ہورہا ہے، آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔
”محب وطن ہونے کا کتنی بارثبوت دوں“ ثانیہ مرزا رو پڑیں
26 جولائی 2014
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا تلنگانہ حکومت کی طرف سے برانڈ ایمبیسڈر مقرر کیے جانے اور اس پر بی جے پی اور کانگریس کی طرف سے پاکستانی بہو کا طعنہ دیئے جانے پر گذشتہ روز ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رو پڑیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے بھارتی شہری ہیں اور رہیں گی۔ انٹر ویو کے دورا ن یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ بھارت نے مجھے اس مقام پر پہنچایا، اپنی حب الوطنی کا کتنی بار ثبوت دینا پڑیگا؟۔ انہوں نے کہا کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے اور یہاں عورتوں سے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے ، میں نے ایک دوسرے ملک کے کرکٹر سے شادی کر لی تو مجھ پر الزامات لگنا شروع ہو گئے ہیں ۔
اور انصاف ہو گیا!
اقوام متحدہ ، وہ ادارہ جس نے دنیا بھر میں ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھائی، مظلوموں کی دادرسی کی، کمز ور تہذیبوں اور لاغر قوموں کے حق میں آواز بلند کر کے طاقتور ملکوں کو دوسروں کا استحصال کرنے سے روکا اور یہ ثابت کیا کہ قوموں کو ان کا حق دلوانے کیلئے یہ اس دنیا کا سب سے ”فعال“ ادارہ ہے۔ اقوا م متحدہ کی تعریف الفاظ کی محتاج نہیں بلکہ اس کے ”کارنامے“ ہی اس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ فلسطین کے اسرائیل کے خلاف ”مظالم“ ہوں، یا کشمیر میں بھارتی فوجیوں کا ”قتل عام“ کسی بھی موقع پر اس ادارے نے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کیا اور ضرورت پڑنے پر ’’ظالموں‘‘ کے سامنے ڈھال بن گیا۔
دو ہفتوں سے زائد حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری ”جنگ“ کے نہ رکنے والے سلسلہ پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون بالآخر اسرائیل پہنچے اور اپنی ”گنہگار“ آنکھوں سے اسرائیل کے گلی کوچوں میں جاری ”حماس کی قتل و غارت“ کو بھی دیکھا، قبروں میں اترنے والے اور ہسپتالوں میں لوتھڑوں کی طرح بے حال کمسن’ دہشت گردوں‘ کے بارے میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی بریفنگ لے کر”حماس کے راکٹ حملوں“ کی مذمت بھی کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کی مائیں اپنے اپنے بچے دفنا رہی ہیں، دونوں فریقین ”جنگ“ بند کر کے مذاکرات کریں۔ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے جس پر آنے والی نسل فخر کرے گی اور دنیا میں قیام امن کیلئے اس ادارے کی کوششوں کو سراہے گی۔
دو ہفتوں سے زائد حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری ”جنگ“ کے نہ رکنے والے سلسلہ پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون بالآخر اسرائیل پہنچے اور اپنی ”گنہگار“ آنکھوں سے اسرائیل کے گلی کوچوں میں جاری ”حماس کی قتل و غارت“ کو بھی دیکھا، قبروں میں اترنے والے اور ہسپتالوں میں لوتھڑوں کی طرح بے حال کمسن’ دہشت گردوں‘ کے بارے میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی بریفنگ لے کر”حماس کے راکٹ حملوں“ کی مذمت بھی کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کی مائیں اپنے اپنے بچے دفنا رہی ہیں، دونوں فریقین ”جنگ“ بند کر کے مذاکرات کریں۔ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے جس پر آنے والی نسل فخر کرے گی اور دنیا میں قیام امن کیلئے اس ادارے کی کوششوں کو سراہے گی۔
ہمارے معاشرے کا المیہ ہے یہ کہ یہاں مرد کی حکمرانی ہے۔ عورت کے جسم سے لے کر عورت کی زندگی اور اس کی تمام تر خواہشات اس کے حکم کی تابع ہوتی ہیں۔ عورت کو اپنے شانہ بشانہ یا اپنے سے آگے چلتے دیکھ کر اس کی مردانگی کی جھوٹی انا کو سخت ترین ٹھیس پہنچتی ہے۔ اگر اسلام کی رو سے بھی دیکھا جائے تو اسلام آپ کی خداداد صلاحیتوں کو زنجیر نہیں پہناتا، اسلام آپ کو اپنی تمام تر صلاحیتیں ،تمام تر اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مسلمان خواتین نے ہر دور میں اپنے مذہب، اپنے گھروں اور وطن کی حفاظت کی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کیا۔ ملک اور اسلام کی تعمیر و ترقی میں جہاں مردوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے وہیں مسلمان خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ مردوں نے کوئی میدان مارا ہو اور خواتین اسلام کا اس میں کوئی حصہ نہ رہا ہو۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسا ہوا ہے کہ مردوں کے لشکر شکست پہ شکست کھاتے چلے گئے اور دشمن نے انہیں ہر مورچے پر اور ہر میدان میں شکست سے دو چر کیا ایسے نازک اور مشکل وقت میں خواتین ہی تھیں جنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور میدان جنگ میں جا بجا بکھری لاشوں کو اکٹھا کرنے اور ایسے مورچوں میں ڈٹ کر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی رہیں، بلا شبہ مسلمان عورت نے ہر دور میں اپنے معاشرے کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ نے شامی باغیوں کو میزائل بھی دیدیے:روسی ٹی وی
08 اپریل 2014 (01:50)
ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک)روس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ شام کے مسلح باغیوں کی عسکری مدد کر رہا اور انہیں مضبوط کرنے کیلئے اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے ۔ روسی ٹی وی کے مطابق شام کے باغیوں کو امریکہ نے جدید اور خطرناک ہتھیار فراہم کردیے ہیں جن میںگائڈڈ میزائل،ٹینک تباہ کرنے والے ہتھیار اور گولہ بارود بھی شامل ہے۔
بچوں کی لاشیں دیکھ کر پتہ لگا غلط جہاز گرادیا، روسی نواز باغیوں کا اقرار
25 جولائی 2014 (20:12)
کیف (نیوز ڈیسک) ملائیشین پرواز MH17 کی یوکرین میں تباہی کی ذمہ داری روس نواز باغیوں کے ایک رکن نے قبول کرکے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اب تک روسی حمایت یافتہ باغی مسلسل اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ طیارے کو یوکرینی حکومت نے نشانہ بنایا اور باغی اس کیلئے ذمہ دار نہیں ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ خود باغیوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ یہ کام یوکرینی حکومت کا نہیں بلکہ ان کا ہے۔ اطالوی اخبار ”کوریئر ڈیلا سیرا“ کا کہنا ہے کہ یوکرینی باغی نے حادثے کی ساری تفصیلات اگل دی ہیں۔ باغی کا کہنا ہے کہ ان کے افسروں نے بتایا کہ یہ ایک یوکرینی کارگو جہاز ہے اور اسرے مار گراﺅ۔ اس نے بتایا کہ جہاز کو میزائل سے گرانے کے بعد انہیں حکم دیا گیا کہ وہ پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے والے یوکرینی فوجیوں کو گرفتار کریں۔ باغی کا کہنا ہے کہ جب وہ پیراشوٹ کی تلاش کررہا تھا تو ایک ننھی بچی کی لاش دیکھ کر ساکت رہ گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر فوجی سامان کی بجائے عام شہریوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ روس نواز باغی کے اس اعتراف کے بعد روسی حکومت پر عالمی دباﺅ اور بڑھ جائے گا کیونکہ اس پر باغیوں کو طیارہ شکن میزائل دینے کا الزام ہے۔
بھارت میں ملائیشین خاتون جنسی زیادتی کا نشانہ بن گئی
09 جون 2014 (20:11)
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں مقامی خواتین تو جنسی زیادتی کا مسلسل شکار بن ہی رہی ہیں ۔ماضی میں بھی غیر ملکی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک مغربی ویب سائیٹ نے طنزیہ تحریر میں یہاں تک لکھ دیا کہ بھارت میں ’ریپ فیسٹول‘ ہونے والا ہے لیکن بھارتی پھر بھی باز نہ آئے اور جمعہ کے روز ملائیشیا کی ایک خاتون کو بھی جے پور شہر میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ کاروباری دورے پر بھارت آئی تھی۔ اس نے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ایک بھارتی شخص سے ملاقات کی جس کے بعد یہ شخص اسے گاڑی میں بٹھاکر ایک ویران مقام پر لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسے مشروب میں نشہ آور دوا ڈال کر پلائی گئی تھی۔ زیادتی کے بعد متاثرہ خاتون کو اس کے ہوٹل کے باہر چھوڑ دیا گیا۔ خاتون نے پولیس سے رابطہ کرکے اس جرم کی رپورٹ کردی جس کے نتیجہ میں 30 سالہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ بھارت میں سال دواں کے آغاز میں ڈنمارک کی ایک خاتون کا بھی گینگ ریپ کیا گیا اور ایک 18 سالہ جرمن خاتون کو بھی منگلور سے چنائی جاتے ہوئے ریل گاڑی میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی خاتون نے 100 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
01 جون 2014 (20:29)
تل ابیب (نیوز ڈیسک) ایک چالیس سالہ اسرائیلی خاتون کو 100 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خاتون جس کا نام نہیں بتایا گیا پر الزام ہے کہ اس نے 100 سے زائد بچوں کو مختلف اوقات میں جنسی حوس کا نشانہ بنایا۔ نشانہ بنانے والے بچوں کی عمریں 12 اور 14 سال کے درمیان ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب شکار بننے والے بچوں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا اور کچھ واقعات کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی۔ نشانہ بننے والے بچوں کے والدین کو یہ خوف بھی ستائے جارہا ہے کہ کہیں خاتون کو ایڈز نہ ہو اور ان کے بچوں میں یہ بیماری نہ منتقل ہوگئی ہو۔ خاتون کے وکیل ”ہوفتی ایدری“ نے میڈیا کو بتایا کہ اس کی مﺅکلہ کو ایڈز نہیں ہے کیونکہ گزشتہ سال اس نے ایڈز ٹیسٹ کروایا تھا اور وہ ٹھیک تھی تاہم ایڈز ٹیسٹ دوبارہ کروایا جاسکتا ہے۔ پولیس نے خاتون کا عدالت میں پیش کیا جہاں اس کے ریمانڈ میں توسیع کردی گئی ہے اور مزید تفتیشی جاری ہے۔ اس واقعہ نے اسرائیلی میڈیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے اور انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مذہبی حلقے اسے اسرائیلی معاشرے کی بے راہ روی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں .
سوئس خاتون بھارتی جنسی درندوں کا نشانہ بن گئی
نئی دہلی (مانیٹرنگ دیسک) بھارت میں اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ منظر عام پر آگیا، بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک سوئس سیاح خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک سوئس جوڑا سائیکلنگ ٹرپ پر مدھیہ پریش کے ضلع داتیا آیا ہوا تھاکہ گزشتہ شب سات نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کیا، حملہ آورں نے مرد کو باندھنے کے بعد خاتون سے زیادتی کی اور ان سے 10 ہزار روپے اور ایک موبائل فون بھی چھین کر لے گئے۔ زیادتی کی شکار سوئس خاتون کو بھوپال شہر کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ پولیس نے سات نامعلوم افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا ہے
بھارت :جنسی درندوں کوعوام کی جانب سے سزائے موت
25 جولائی 2014
نیودہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں نوعمر لڑکیوں کو گینگ ریپ کے بعد پھانسی لٹکانے کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا اور حکومتی اداروں کی بے حسی کے بعد لوگوں نے قانون ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ مغربی بنگال میں ایک تازہ واقعے میں ایک سات سالہ بچی کو گینگ ریپ کے بعد درخت کے ساتھ لٹکا کر پھانسی دے دی گئی۔ مشتعل دیہاتیوں نے بچی کی لاش ملنے پر ایک مقامی ہندو گرو اور اس کے دو ساتھیوں کو پکڑ لیا کیونکہ گرو کو گزشتہ روز بچی کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ دیہاتیوں نے گرو اور اس کے ساتھیوں کو مار مار کر ادھ موا کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ تین ملزمان میں سے ایک کی موت واقع ہوچکی ہے۔ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ دکان سے کوئی چیز لینے گئی تھی کہ گرو نے اسے کھانے کے بہانے اپنے پاس بلا لیا۔ متعدد دیگر دیہاتیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بچی کو گرو کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ ان کی معصوم بچیوں پر جنسی درندے آئے روز حملے کررہے ہیں لیکن پولیس کو بار بار اطلاعات دینے کے باوجود مجرموں کو ہاتھ تک نہیں لگایا جاتا جس کی وجہ سے انہیں خود ہی ان درندوں کو ٹھکانے لگانا پڑا۔ واضح رہے کہ بھارت میں عورتوں اور نوعمر لڑکیوں کو گینگ ریپ کے بعد پھانسی دینے کی روایت چل پڑی ہے اور پچھلے کچھ ماہ کے دوران ہی ایسے درجنوں واقعات ہوچکے ہیں۔
Tuesday, 22 July 2014
30 Days, 30 Countries - Day 24: Mali
30 Days, 30 Countries - Day 24: Mali
In a village in Mali, six women set up a small business with support from Islamic Relief. Collecting and grinding nuts, they produce and sell shea butter, the main ingredient of many skin creams. The business grew quickly, and with training and support, now employs 74 women. We even partnered them with a cosmetics company in Paris, who now buy and import their butter!
The women can now support their children, and as the business grows and they take on new employees, they’re helping more and more women do the same. Donate to Islamic Relief this Ramadan and inshaAllah, we can double your donation with match funding from the UK Government up to a maximum of £5 million. Help us lift twice as many families out of poverty around the world!
In a village in Mali, six women set up a small business with support from Islamic Relief. Collecting and grinding nuts, they produce and sell shea butter, the main ingredient of many skin creams. The business grew quickly, and with training and support, now employs 74 women. We even partnered them with a cosmetics company in Paris, who now buy and import their butter!
The women can now support their children, and as the business grows and they take on new employees, they’re helping more and more women do the same. Donate to Islamic Relief this Ramadan and inshaAllah, we can double your donation with match funding from the UK Government up to a maximum of £5 million. Help us lift twice as many families out of poverty around the world!
رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے. روزہ کہے گا میں نے اس بندے کو دن میں کھانے سے اور شہوت پوری کرنے سے روکا اور قرآن کہے گا میں نے اس کو رات کو سونے سے روک دیا تھا پس اس کے بارے میں ہماری سفارش قبول فرما. پس ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی. صحیح الجامع 3882 مشکوۃ 612/1
روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے. روزہ کہے گا میں نے اس بندے کو دن میں کھانے سے اور شہوت پوری کرنے سے روکا اور قرآن کہے گا میں نے اس کو رات کو سونے سے روک دیا تھا پس اس کے بارے میں ہماری سفارش قبول فرما. پس ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی. صحیح الجامع 3882 مشکوۃ 612/1
Subscribe to:
Posts (Atom)



