اسرائیلی خاتون نے 100 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
تل ابیب (نیوز ڈیسک) ایک چالیس سالہ اسرائیلی خاتون کو 100 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خاتون جس کا نام نہیں بتایا گیا پر الزام ہے کہ اس نے 100 سے زائد بچوں کو مختلف اوقات میں جنسی حوس کا نشانہ بنایا۔ نشانہ بنانے والے بچوں کی عمریں 12 اور 14 سال کے درمیان ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب شکار بننے والے بچوں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا اور کچھ واقعات کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی۔ نشانہ بننے والے بچوں کے والدین کو یہ خوف بھی ستائے جارہا ہے کہ کہیں خاتون کو ایڈز نہ ہو اور ان کے بچوں میں یہ بیماری نہ منتقل ہوگئی ہو۔ خاتون کے وکیل ”ہوفتی ایدری“ نے میڈیا کو بتایا کہ اس کی مﺅکلہ کو ایڈز نہیں ہے کیونکہ گزشتہ سال اس نے ایڈز ٹیسٹ کروایا تھا اور وہ ٹھیک تھی تاہم ایڈز ٹیسٹ دوبارہ کروایا جاسکتا ہے۔ پولیس نے خاتون کا عدالت میں پیش کیا جہاں اس کے ریمانڈ میں توسیع کردی گئی ہے اور مزید تفتیشی جاری ہے۔ اس واقعہ نے اسرائیلی میڈیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے اور انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مذہبی حلقے اسے اسرائیلی معاشرے کی بے راہ روی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں .
No comments:
Post a Comment