Saturday, 26 July 2014

 ہمارے معاشرے کا المیہ ہے یہ کہ یہاں مرد کی حکمرانی ہے۔ عورت کے جسم سے لے کر عورت کی زندگی اور اس کی تمام تر خواہشات اس کے حکم کی تابع ہوتی ہیں۔ عورت کو اپنے شانہ بشانہ یا اپنے سے آگے چلتے دیکھ کر اس کی مردانگی کی جھوٹی انا کو سخت ترین ٹھیس پہنچتی ہے۔ اگر اسلام کی رو سے بھی دیکھا جائے تو اسلام آپ کی خداداد صلاحیتوں کو زنجیر نہیں پہناتا، اسلام آپ کو اپنی تمام تر صلاحیتیں ،تمام تر اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مسلمان خواتین نے ہر دور میں اپنے مذہب، اپنے گھروں اور وطن کی حفاظت کی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کیا۔ ملک اور اسلام کی تعمیر و ترقی میں جہاں مردوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے وہیں مسلمان خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ مردوں نے کوئی میدان مارا ہو اور خواتین اسلام کا اس میں کوئی حصہ نہ رہا ہو۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسا ہوا ہے کہ مردوں کے لشکر شکست پہ شکست کھاتے چلے گئے اور دشمن نے انہیں ہر مورچے پر اور ہر میدان میں شکست سے دو چر کیا ایسے نازک اور مشکل وقت میں خواتین ہی تھیں جنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور میدان جنگ میں جا بجا بکھری لاشوں کو اکٹھا کرنے اور ایسے مورچوں میں ڈٹ کر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی رہیں، بلا شبہ مسلمان عورت نے ہر دور میں اپنے معاشرے کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment